سعد کا کھانا سعد کراچی میں اپنے چھوٹے گھر کے اندر فون ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ سامنے چاول، پانی اور ایک بڑا برتن رکھا تھا، مگر آگ ابھی بند تھی۔ فون پر امی نے پوچھا، ”شام کو کیا کھاؤ گے؟“ سعد نے چاول کی طرف دیکھا اور کہا، ”میں آج خود کھانا پکاؤں گا۔“ امی کچھ دیر خاموش رہیں، پھر بولیں، ”تم کھانا پکا سکتے ہو؟“ ”بالکل، یہ کون سا مشکل کام ہے؟“ سعد نے جواب دیا۔ ”اچھا، تو میں بھی آ رہی ہوں،“ امی نے کہا۔ ”ایک گھنٹے بعد تمہارے گھر کھانا کھاؤں گی۔“ سعد نے فوراً کہا، ”ضرور آئیں، کھانا تیار ہوگا۔“ فون بند ہوا، تو سعد نے برتن کو ایسے دیکھا جیسے وہ سوال کر رہا ہو۔ اس نے فون پر چاول پکانے کا ایک پروگرام چلایا۔ آواز آئی، ”پہلے چاول صاف کریں۔“ سعد نے چاول ہاتھ میں لیے اور بولا، ”یہ تو پہلے ہی صاف نظر آتے ہیں۔“ پھر بھی اس نے چاول پانی میں ڈالے، مگر آدھے چاول نیچے زمین پر گر گئے۔ اس نے زمین والے چاول الگ کیے اور کہا، ”یہ کل کے لیے ہیں۔“ پروگرام کی آواز نے کہا، ”ایک حصہ چاول کے ساتھ دو حصے پانی ڈالیں۔“ سعد نے برتن میں پانی ڈالا، پھر کچھ اور پانی ڈالا۔ وہ رک گیا اور فون سے پوچھا، ”حصہ کتنا بڑا ہوتا ہے؟“ فون نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سعد نے کہا، ”ٹھیک ہے، زیادہ پانی زیادہ اچھا ہوگا۔“ اس نے آگ شروع کی، اور چند ہی منٹ بعد پانی برتن سے باہر آنے لگا۔ سعد نے آگ کم کی، مگر پانی پھر بھی باہر آتا رہا۔ اسی وقت امی کا فون آیا۔ ”کھانا تیار ہے؟“ امی نے پوچھا۔ ”قریب ہے،“ سعد نے کہا۔ ”چاول ابھی تھوڑا سفر کر رہے ہیں۔“ ”کہاں جا رہے ہیں؟“ سعد نے زمین پر آتے پانی کو دیکھا۔ ”برتن سے باہر، مگر میں انہیں روک رہا ہوں۔“ امی نے کہا، ”آگ بند کرو۔“ ”لیکن پروگرام میں ابھی آگ بند نہیں ہوئی،“ سعد نے جواب دیا۔ دروازے پر آواز ہوئی، اور سعد نے فون کان سے ہٹایا۔ باہر امی فون ہاتھ میں لیے کھڑی تھیں۔ ”آپ ایک گھنٹے بعد آنے والی تھیں،“ سعد نے کہا۔ ”ایک گھنٹہ پورا ہو چکا ہے،“ امی نے جواب دیا اور اندر آ گئیں۔ انہوں نے زمین پر چاول، برتن کے باہر پانی اور فون پر چلتا پروگرام دیکھا۔ پھر انہوں نے ایک چاول ہاتھ میں لیا اور اسے سختی سے دبایا۔ ”یہ ابھی بھی سخت ہے،“ امی نے کہا۔ سعد نے جواب دیا، ”میں بھی یہی چاہتا تھا، تاکہ کھانے میں طاقت ہو۔“ امی نے اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا سامنے رکھا۔ سعد نے حیرت سے پوچھا، ”آپ کھانا ساتھ لائی ہیں؟“ ”ہاں،“ امی نے کہا۔ ”میں تمہاری بات پر یقین کرتی ہوں، مگر اپنے رات کے کھانے پر نہیں۔“ سعد نے اپنا برتن اٹھایا اور پوچھا، ”ان چاولوں کا کیا کریں؟“ امی نے دروازہ کھولا اور کہا، ”پہلے پروگرام والے صاحب کو کھلاؤ۔“