بازار لاہور میں ایک عورت ایک چھوٹے گھر میں رہتی ہے۔ وہ چند ہفتے پہلے یہاں آئی ہے۔ آج شام ایک پڑوس کی عورت اس کے ساتھ کھانا کھائے گی۔ کھانے کی جگہ جلد بند ہوگی۔ عورت کے گھر میں ایک چھوٹی جگہ ہے۔ وہاں ایک چولہا، ایک کپ، اور ایک بیگ ہے۔ عورت یہاں کی بہت کم بات جانتی ہے۔ اس کے پاس ایک اور دو کے پیسے ہیں۔ وہ جلد کھانے کی جگہ پہنچتی ہے۔ ایک آدمی سامنے کھڑا ہے۔ وہ چیزیں ایک ایک کر کے رکھتا ہے۔ عورت پانی چاہتی ہے، مگر پانی کا نام نہیں جانتی۔ وہ پانی کی طرف انگلی کرتی ہے۔ "یہ، صاحب۔" آدمی ایک کتاب اس کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ "یہ کتاب ہے۔" "نہیں، یہ نہیں۔" عورت پھر انگلی کرتی ہے۔ آدمی ایک کپ اس کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ "یہ کپ ہے۔" "نہیں، یہ نہیں۔" عورت پھر انگلی کرتی ہے۔ اس بار آدمی ایک بیگ اٹھاتا ہے۔ "یہ بیگ ہے۔" "نہیں، یہ نہیں۔" آدمی ہنستا ہے، مگر کام نہیں چھوڑتا۔ وہ ایک بڑی چیز خود اٹھاتا ہے۔ وہ اسے عورت کے سامنے رکھتا ہے۔ "یہ پانی ہے۔" وہ پھر آہستہ بولتا ہے۔ "پانی۔" عورت اس کا منہ دیکھتی ہے۔ "پانی؟" آدمی کہتا ہے، "ہاں، پانی۔" عورت بولتی ہے، "بانی۔" آدمی نرمی سے کہتا ہے، "پانی۔" عورت پھر بولتی ہے، "پانی۔" آدمی کہتا ہے، "ہاں، پانی۔" وہ پانی بیگ میں رکھتا ہے۔ پھر وہ ایک اور پانی بیگ میں رکھتا ہے۔ "یہ پانی بھی، پیسے نہیں۔" عورت ایک پیسہ آگے کرتی ہے۔ آدمی ہاتھ سے ایک اور پیسہ دکھاتا ہے۔ "ایک۔" عورت کہتی ہے، "ایک۔" آدمی ایک پیسہ لے لیتا ہے۔ عورت بیگ پکڑتی ہے۔ "شکریہ۔" آدمی کہتا ہے، "ہاں، ٹھیک۔" عورت باہر آتی ہے۔ راستہ گھر کی طرف ہے۔ وہ بیگ اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہے۔ وہ راستے میں ایک بار بولتی ہے، "پانی۔" وہ ایک آدمی کو دیکھتی ہے، مگر کچھ نہیں کہتی۔ وہ اپنے گھر کے پاس پہنچتی ہے۔ وہ سیڑھیوں کے نیچے کھڑی ہوتی ہے۔ اوپر سیڑھیوں پر پڑوس کی عورت کھڑی ہے۔ عورت دروازے کے پاس رک کر کہتی ہے، "پانی۔"