آخری بس آج مریم نورآباد کی اس بس میں آخری بار جاتی ہے۔ آج اس کا نیا کام شروع ہوتا ہے۔ نئی جگہ گھر کے قریب ہے۔ اس لیے کل سے اسے یہ بس نہیں ملے گی۔ سلمان ہر صبح اسی جگہ کھڑا ہوتا ہے۔ مریم ہر صبح اسی بس میں آتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ دونوں کبھی بات نہیں کرتے۔ آج مریم بس کے قریب کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا بیگ ہے۔ سلمان بھی بس کے دروازے کے پاس ہے۔ مریم کہتی ہے، "آپ ہر صبح یہاں ہوتے ہیں۔" سلمان کہتا ہے، "جی، میں ہر صبح یہاں ہوتا ہوں۔" "آپ اسی بس میں جاتے ہیں؟" "جی، میں اسی بس میں جاتا ہوں۔ آپ بھی؟" "میں بھی جاتی ہوں۔ مگر آج آخری بار۔" سلمان کچھ دیر خاموش رہتا ہے۔ بس ابھی نہیں آئی۔ سڑک پر لوگ آتے جاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے، "آپ کل نہیں آئیں گی؟" مریم کہتی ہے، "نہیں، کل سے میرا کام گھر کے قریب ہے۔" "آپ کا کام کہاں ہے؟" "یہاں سے آگے ایک جگہ ہے۔ نام یاد نہیں۔" سلمان ہلکا سا سر ہلاتا ہے۔ "آپ کو یہ بس پسند ہے؟" مریم کہتی ہے، "بس ٹھیک ہے۔ مجھے راستہ معلوم ہے۔" "مجھے بھی راستہ معلوم ہے۔" "آپ کا کام کہاں ہے؟" "بازار کے پاس ہے۔ میں وہاں روز جاتا ہوں۔" مریم بیگ کو ہاتھ میں بدلتی ہے۔ "آپ کا نام کیا ہے؟" سلمان کہتا ہے، "سلمان۔ آپ کا نام؟" "مریم۔" دونوں نام ایک بار پھر کہتے ہیں۔ سلمان پوچھتا ہے، "مریم، آپ آج ہی کیوں بتا رہی ہیں؟" مریم کہتی ہے، "آپ نے آج ہی پوچھا ہے۔" سلمان کہتا ہے، "میں پہلے بھی پوچھنا چاہتا تھا۔" "پھر پوچھا کیوں نہیں؟" "مجھے لگا، آپ بات نہیں کرنا چاہتیں۔" مریم کہتی ہے، "مجھے بھی یہی لگا۔" بس دور سے دکھائی دیتی ہے۔ سلمان سڑک کی طرف دیکھتا ہے، پھر مریم کی طرف۔ وہ جلدی سے کہتا ہے، "مریم، کیا میں آپ سے ایک بات کہوں؟" "کہیں۔" "میں آپ کو ہر صبح دیکھتا ہوں۔ میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔" مریم جواب نہیں دیتی۔ بس قریب آتی ہے۔ سلمان کہتا ہے، "میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔" مریم کی آنکھیں بس کے دروازے پر ہیں۔ وہ آہستہ کہتی ہے، "مجھے معلوم ہے۔" سلمان پوچھتا ہے، "آپ کو معلوم تھا؟" "آپ ہر صبح میری طرف دیکھتے تھے۔" "آپ نے کبھی کچھ نہیں کہا۔" "آپ نے بھی کچھ نہیں کہا۔" بس رک جاتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے۔ مریم ایک قدم آگے بڑھاتی ہے، پھر رک جاتی ہے۔ سلمان کہتا ہے، "کیا میں آپ سے دوبارہ مل سکتا ہوں؟" مریم کہتی ہے، "ابھی نہیں۔ میرے گھر میں میری شادی کی بات ہو رہی ہے۔" سلمان خاموش ہو جاتا ہے۔ مریم کہتی ہے، "ابھی کچھ طے نہیں ہوا۔" "پھر میں کیا کروں؟" "آپ اپنا کام کریں۔" "اور آپ؟" "میں گھر میں بات کروں گی۔" سلمان پوچھتا ہے، "کیا آپ مجھے اپنا نمبر دیں گی؟" مریم کچھ دیر بیگ کھولتی ہے۔ وہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالتی ہے۔ وہ کاغذ سلمان کو دیتی ہے اور کہتی ہے، "پہلے آپ پیغام کریں۔" سلمان کاغذ لے کر کہتا ہے، "آج؟" مریم کہتی ہے، "آج نہیں۔ شام کے بعد۔" "آپ جواب دیں گی؟" "اگر گھر میں بات ہو گئی تو۔" سلمان کاغذ ہاتھ میں رکھتا ہے۔ بس کا دروازہ کھلا ہے۔ مریم بس میں چڑھتی ہے۔ وہ دروازے سے سلمان کو دیکھ کر کہتی ہے، "کل یہاں مت آنا۔" سلمان کہتا ہے، "میں کل یہاں نہیں آؤں گا۔" مریم پوچھتی ہے، "پھر کہاں آؤ گے؟" سلمان کاغذ دیکھ کر کہتا ہے، "آپ کے جواب کے بعد۔" مریم بیٹھ جاتی ہے۔ بس چل پڑتی ہے۔ سلمان سڑک پر کھڑا کاغذ کھولتا ہے۔