اکرم کی گھڑی آج اکرم کو نئی جگہ پر کام شروع کرنا ہے۔ وہ گھر کے سامنے گھڑیاں درست کرتا ہے۔ زینب صبح سے دروازے کے پاس بیٹھی ہے۔ بلال بھی وہاں کھڑا وقت دیکھ رہا ہے۔ زینب کہتی ہے، "اکرم، آٹھ بج گئے ہیں۔" اکرم گھر کے اندر سے کہتا ہے، "میں آ رہا ہوں۔" زینب کہتی ہے، "تم نے یہی بات کل بھی کہی تھی۔" اکرم کہتا ہے، "آج میں وقت پر آؤں گا۔" بلال اپنی گھڑی دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "اب آٹھ بج کر دس ہیں۔" اکرم دروازے سے نکلتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں تین گھڑیاں ہیں۔ ایک گھڑی اس کے گلے میں ہے۔ ایک گھڑی جیب میں ہے۔ تیسری گھڑی وہ ہاتھ میں رکھتا ہے۔ زینب پوچھتی ہے، "تم پھر اندر کیوں جاتے ہو؟" اکرم کہتا ہے، "یہ گھڑی غلط ہے۔" زینب پوچھتی ہے، "کون سی گھڑی غلط ہے؟" اکرم تینوں گھڑیاں دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "یہ سب غلط ہیں۔" بلال کہتا ہے، "تمہاری گھڑی بھی غلط ہے؟" اکرم کہتا ہے، "نہیں، میری گھڑی درست ہے۔" زینب کہتی ہے، "تو وقت کیا ہے؟" اکرم گھڑی دیکھتا ہے۔ وہ خاموش رہتا ہے۔ پھر کہتا ہے، "اب وقت بدل گیا ہے۔" زینب دروازہ کھولتی ہے۔ سامنے ایک آدمی کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بڑی گھڑی ہے۔ آدمی کہتا ہے، "اکرم، یہ گھڑی کل سے بند ہے۔" اکرم کہتا ہے، "میں اسے ابھی درست کرتا ہوں۔" زینب کہتی ہے، "پہلے نئی جگہ پر چلو۔" اکرم گھڑی کھولنے لگتا ہے۔ بلال اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا اوزار دیتا ہے۔ زینب کہتی ہے، "اکرم، تم پھر بیٹھ گئے۔" اکرم کہتا ہے، "یہ کام ضروری ہے۔" زینب کہتی ہے، "نئی جگہ پر کام ضروری ہے۔" اکرم کہتا ہے، "یہ گھڑی بھی ضروری ہے۔" آدمی کہتا ہے، "میرا وقت بھی ضروری ہے۔" اکرم سر اٹھاتا ہے۔ وہ آدمی کو دیکھتا ہے۔ پھر وہ گھڑی کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "آپ کا وقت کیا ہے؟" آدمی کہتا ہے، "نو بجے ہیں۔" بلال اپنی گھڑی دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "نو بج کر بیس ہیں۔" زینب کہتی ہے، "اکرم، تم پھر دیر سے ہو۔" اکرم جلدی سے گھڑی بند کرتا ہے۔ وہ تینوں گھڑیاں جیب میں رکھتا ہے۔ پھر وہ گھر کا دروازہ بند کرتا ہے۔ زینب پوچھتی ہے، "اب چلتے ہو؟" اکرم کہتا ہے، "ہاں، اب وقت پر چلتے ہیں۔" اسی وقت گھر کے اندر سے ایک گھڑی کی آواز آتی ہے۔ اکرم رک جاتا ہے۔ وہ زینب کی طرف دیکھتا ہے۔ زینب کہتی ہے، "اس گھڑی کو نہیں دیکھنا۔" اکرم کہتا ہے، "لیکن آواز بہت صاف ہے۔" زینب دروازہ کھولتی ہے اور کہتی ہے، "اکرم، آج کام کرو۔" اکرم اندر جاتا ہے۔ بلال آدمی کے ساتھ سڑک پر چل پڑتا ہے۔ زینب دروازے پر کھڑی رہتی ہے۔ کچھ دیر بعد اکرم باہر آتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں چوتھی گھڑی ہے۔ وہ کہتا ہے، "اب یہ گھڑی بھی درست ہے۔" زینب کہتی ہے، "اکرم، نئی جگہ کہاں ہے؟" اکرم سڑک کی طرف دیکھتا ہے۔ وہاں کوئی نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے، "وہ لوگ کہاں گئے؟" زینب گھڑی دیکھتی ہے اور دروازہ بند کر دیتی ہے۔