دو کپ چائے آج سلیم کے لیے خاص دن ہے۔ سلیم ہر دن یہاں آتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹی جگہ ہے۔ سامنے سڑک ہے۔ پاس ایک گھر ہے۔ سلیم ہر دن ایک کپ چائے پیتا ہے۔ آج وہ اکیلا نہیں ہے۔ آج نادر اس کے ساتھ ہے۔ نادر پہلی بار یہاں آیا ہے۔ سلیم نے دروازے کے پاس جا کر کہا، "السلام علیکم۔ ایک کپ چائے۔" چائے والے نے سلیم کو دیکھا۔ اس نے ایک کپ رکھا۔ پھر اس نے دوسرا کپ بھی رکھا۔ سلیم نے کہا، "میں نے ایک کپ کہا تھا۔" چائے والے نے کہا، "آج دو کپ ہیں۔" سلیم نے نادر کی طرف دیکھا۔ نادر نے کہا، "میرے لیے ہے؟" چائے والے نے کہا، "ہاں، آپ کے لیے ہے۔" سلیم نے کہا، "یہ نادر ہے۔ یہ آج میرے ساتھ آیا ہے۔" نادر نے کہا، "میں نادر ہوں۔" چائے والے نے کہا، "بیٹھیں۔" سلیم اور نادر سامنے بیٹھ گئے۔ میز پر دو کپ تھے۔ دونوں کپ میں چائے تھی۔ پاس پانی بھی تھا۔ نادر نے کپ کو ہاتھ سے چھوا۔ اس نے کہا، "یہ چائے اچھی ہے۔" سلیم نے کہا، "میں ہر دن یہی چائے پیتا ہوں۔" نادر نے پوچھا، "ہر دن ایک کپ؟" سلیم نے کہا، "ہر دن ایک کپ۔" نادر نے پوچھا، "اور آج؟" سلیم نے کہا، "آج دو کپ۔" چائے والا پاس آیا۔ اس نے کہا، "اور کچھ چاہیے؟" سلیم نے کہا، "نہیں، ابھی کچھ نہیں چاہیے۔" نادر نے کہا، "میرے لیے پانی ہے۔" چائے والے نے پانی کا گلاس نادر کے سامنے رکھا۔ نادر نے کہا، "کتنے روپے؟" چائے والے نے کہا، "ایک کپ کے چار روپے ہیں۔" نادر نے کہا، "دو کپ کے آٹھ روپے ہیں۔" چائے والے نے کہا، "ہاں، آٹھ روپے ہیں۔" سلیم نے اپنی جیب میں ہاتھ رکھا۔ جیب میں چار روپے تھے۔ سلیم نے نادر سے کہا، "میرے پاس چار روپے ہیں۔" نادر نے کہا، "میرے پاس بھی چار روپے ہیں۔" سلیم نے کہا، "آج تم نے میرے ساتھ چائے پی۔" نادر نے کہا، "آج تم نے مجھے یہاں بلایا۔" سلیم نے کہا، "ہاں، میں ہر دن یہاں آتا ہوں۔" نادر نے پوچھا، "تم یہاں کیوں آتے ہو؟" سلیم نے کہا، "یہاں وقت اچھا جاتا ہے۔ چائے بھی اچھی ہے۔" نادر نے کہا، "گھر میں بھی چائے ہے۔" سلیم نے کہا، "گھر میں چائے ہے۔ مگر یہاں وقت الگ ہے۔" نادر نے پھر کپ اٹھایا۔ سلیم نے بھی کپ اٹھایا۔ دونوں نے چائے پی۔ چائے والا میز کے پاس کھڑا رہا۔ سڑک پر لوگ جاتے رہے۔ ایک گاڑی سامنے سے گئی۔ پھر جگہ میں پہلے جیسی بات ہوئی۔ نادر نے کہا، "میں کل بھی آؤں؟" سلیم نے کہا، "تم جب چاہو آؤ۔" نادر نے کہا، "کل بھی دو کپ ہوں گے؟" چائے والے نے دور سے کہا، "اگر دو لوگ ہوں گے، تو دو کپ ہوں گے۔" نادر نے سلیم کی طرف دیکھا۔ سلیم نے جیب سے چار روپے نکالے۔ نادر نے بھی چار روپے میز پر رکھے۔ چائے والے نے روپے اٹھائے۔ پھر وہ خالی کپ لے گیا۔ سلیم کھڑا ہوا۔ نادر بھی کھڑا ہوا۔ دونوں دروازے تک گئے۔ نادر نے کہا، "آج ایک کپ نہیں تھا۔" سلیم نے کہا، "آج دو کپ تھے۔" اگلے دن میز پر دو کپ پہلے سے رکھے تھے۔