کتاب میں رکھا پھول لاہور میں شام ہوئی تو عدیل آخری کتاب درست کر رہا تھا۔ باہر بارش جاری تھی، اور کام کی جگہ تقریبا خالی تھی۔ مہر ایک کتاب ہاتھ میں لیے اندر آئی اور سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے کہا، ”یہ میری آخری کتاب ہے۔“ عدیل نے کتاب لی، مگر اس کا ہاتھ وہیں روک گیا۔ اس نے پوچھا، ”آخری کتاب، یا آج کی آخری کتاب؟“ مہر نے اپنی آنکھیں نیچے کر لیں۔ ”ہم کل لاہور سے دوسرے شہر جا رہے ہیں۔“ عدیل نے کتاب کھولی تو ایک پھول نیچے آ گیا۔ اس نے پھول اٹھایا اور کہا، ”یہ پھر یہاں تھا۔“ مہر نے جواب دیا، ”شاید کتاب کو پھول پسند ہیں۔“ ”ہر کتاب کو ایک ہی طرح کا پھول پسند ہے؟“ ”آپ نے ہر پھول محفوظ رکھا، اس لیے میں لاتی رہی۔“ عدیل نے کتاب کے آخری صفحے پر ہاتھ رکھا۔ ”پہلی کتاب میں پھول ملا تو میں نے یہاں ’محفوظ‘ لکھا تھا۔“ مہر نے کہا، ”اگلی کتاب میں میں نے ’کیوں؟‘ لکھا تھا۔“ ”اور میں نے جواب دیا تھا، ’کیونکہ بعض چیزیں واپس نہیں ملتیں۔‘“ مہر نے اس کی طرف دیکھا اور کتاب اپنے قریب کر لی۔ ”میں ہر بار جواب دیکھنے کے لیے نئی کتاب لاتی تھی۔“ عدیل نے آہستہ سے پوچھا، ”کیا پھول بھی جواب تھے؟“ مہر نے کہا، ”آپ اتنی دیر بعد یہ سوال کر رہے ہیں۔“ ”مجھے یقین نہیں تھا کہ سوال کرنے کا حق ہے۔“ ”اور اب ہے؟“ عدیل نے پھول کتاب کے آخری صفحے میں رکھ دیا۔ ”اب وقت کم ہے، اس لیے سوال ضروری ہے۔“ مہر نے کہا، ”تو سوال کریں۔“ عدیل نے کتاب اس کے سامنے رکھی۔ ”کیا میں آپ کو خط لکھ سکتا ہوں؟“ مہر نے کتاب کھولی، مگر پھول اپنی جگہ رہنے دیا۔ ”آپ کو میرا نیا پتہ کیسے ملے گا؟“ عدیل نے کہا، ”اگر آپ دینا چاہیں تو اسی صفحے پر لکھ دیں۔“ مہر نے پتہ لکھا، پھر اس کے نیچے ایک چھوٹی سی بات بھی لکھی۔ عدیل نے پڑھا، ”چھ ماہ بعد میں واپس آؤں گی۔“ اس نے پوچھا، ”اور اگر میں انتظار نہ کر سکا؟“ مہر نے کتاب اس کے ہاتھ میں دی اور کہا، ”پھر ہر ہفتے خط لکھیں، انتظار آسان ہو جائے گا۔“