حامد کی دکان آج حامد بازار میں اپنی دکان پر ہے۔ آج لوگوں کو روپے ملے ہیں۔ آج بازار میں زیادہ لوگ ہیں۔ حامد صبح سے چائے اور روٹی رکھتا ہے۔ وہ ہر شخص کا کام یاد رکھتا ہے۔ وہ ہر شخص کی بات بھی یاد رکھتا ہے۔ ناہید دکان کے سامنے آتی ہے۔ حامد کہتا ہے، "ناہید، ایک چائے اور دو روٹی؟" ناہید کہتی ہے، "ہاں، لیکن آج ایک روٹی ہے۔" حامد پوچھتا ہے، "روپے کم ہیں؟" ناہید کہتی ہے، "ہاں، آج روپے کم ہیں۔" حامد ایک چائے اور ایک روٹی دیتا ہے۔ ناہید روپے دیتی ہے۔ حامد روپے واپس نہیں لیتا۔ ناہید کہتی ہے، "یہ زیادہ ہے۔" حامد کہتا ہے، "کل دے دینا۔" ناہید کہتی ہے، "کل ضرور دوں گی۔" حامد کہتا ہے، "مجھے معلوم ہے۔" سلیم سامنے سے آتا ہے۔ حامد کہتا ہے، "سلیم، تمہاری چائے تیار ہے۔" سلیم کہتا ہے، "آج چائے نہیں، پانی دو۔" حامد پانی دیتا ہے۔ سلیم پانی پیتا ہے۔ سلیم کہتا ہے، "آج کام نہیں ملا۔" حامد کہتا ہے، "کام کل ہو جائے گا۔" سلیم کہتا ہے، "کل بھی یہی بات تھی۔" حامد کچھ نہیں کہتا۔ وہ سلیم کے سامنے روٹی رکھتا ہے۔ سلیم کہتا ہے، "روٹی نہیں چاہیے۔" حامد کہتا ہے، "روٹی رکھ لو۔" سلیم کہتا ہے، "روپے بعد میں دوں گا۔" حامد کہتا ہے، "بعد میں دے دینا۔" رفیق دکان پر آتا ہے۔ وہ ہمیشہ تین چائے لیتا ہے۔ حامد پہلے ہی تین چائے رکھ دیتا ہے۔ رفیق کہتا ہے، "آج دو چائے ہیں۔" حامد کہتا ہے، "ایک شخص نہیں آیا؟" رفیق کہتا ہے، "وہ آج گھر میں ہے۔" حامد ایک چائے واپس رکھتا ہے۔ رفیق پوچھتا ہے، "تم سب کو یاد رکھتے ہو؟" حامد کہتا ہے، "ہاں، تم تین چائے لیتے ہو۔" رفیق کہتا ہے، "آج دو چائے لیتا ہوں۔" حامد کہتا ہے، "آج دو چائے ہیں۔" دکان کے باہر احمد کھڑا ہے۔ احمد کئی دن سے حامد کو دیکھتا ہے۔ آج احمد اندر آتا ہے۔ حامد پوچھتا ہے، "احمد، کیا چاہیے؟" احمد کہتا ہے، "مجھے چائے چاہیے۔" حامد پوچھتا ہے، "ایک چائے؟" احمد کہتا ہے، "ایک چائے اور ایک روٹی۔" حامد پوچھتا ہے، "روپے ہیں؟" احمد اپنی جیب دیکھتا ہے۔ اس کی جیب میں ایک روپیہ ہے۔ احمد کہتا ہے، "ایک روپیہ ہے۔" حامد چائے اور روٹی رکھتا ہے۔ احمد کہتا ہے، "میں باقی روپے بعد میں دوں گا۔" حامد کہتا ہے، "تم کل دے دینا۔" احمد کہتا ہے، "میں کل ضرور آؤں گا۔" ناہید یہ بات سنتی ہے۔ وہ احمد کو دیکھتی ہے۔ ناہید کہتی ہے، "احمد، یہ روپے لے لو۔" احمد کہتا ہے، "نہیں، میرے پاس ایک روپیہ ہے۔" ناہید کہتی ہے، "حامد نے مجھے بھی بعد میں دینے کو کہا ہے۔" احمد روپے لیتا ہے۔ وہ حامد کو باقی روپے دیتا ہے۔ حامد روپے گنتا ہے۔ وہ احمد کی طرف دیکھتا ہے۔ حامد کہتا ہے، "کل تم کیا لو گے؟" احمد کہتا ہے، "ایک چائے اور ایک روٹی۔" حامد کہتا ہے، "میں یاد رکھوں گا۔" احمد کہتا ہے، "میں بھی یاد رکھوں گا۔" باہر پھر لوگ آتے ہیں۔ حامد چائے بناتا ہے۔ ناہید کہتی ہے، "حامد، اب میری ایک چائے بھی دے دو۔" حامد کہتا ہے، "ناہید، تمہاری چائے تیار ہے۔"