پہلا ٹکٹ آج حمزہ کا سینما میں پہلا دن ہے۔ آج اس کا پہلا کام بھی ہے۔ شام کو نئی فلم شروع ہونے والی ہے۔ حمزہ ٹکٹ والی جگہ پر کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پچاس روپے ہیں۔ یہ اس کے اپنے پچاس روپے ہیں۔ منیجر سلیم اس کے سامنے آتا ہے۔ وہ ہر فلم پوری یاد رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ”پہلے پیسے دیکھو، پھر ٹکٹ دو۔“ حمزہ کہتا ہے، ”پہلے پیسے، پھر ٹکٹ۔“ سلیم کہتا ہے، ”اور منہ بند رکھو۔“ ”کیوں؟“ ”فلم کا انجام مت بتانا۔“ حمزہ ہنستا ہے۔ ”مجھے فلم کا آغاز بھی معلوم نہیں۔“ ایک خاتون دس روپے سامنے رکھتی ہے۔ ”ایک ٹکٹ دیں۔“ حمزہ پیسے دیکھتا ہے۔ ”یہ دس روپے ہیں۔“ ”ہاں، میں جانتی ہوں۔“ ”ٹکٹ پچاس روپے کا ہے۔“ خاتون کہتی ہے، ”کل چالیس کا تھا۔“ سلیم فوراً کہتا ہے، ”کل دوسری فلم تھی۔“ خاتون مزید چالیس روپے دیتی ہے۔ حمزہ اسے ایک ٹکٹ دے دیتا ہے۔ ”پہلے پیسے، پھر ٹکٹ،“ سلیم کہتا ہے۔ ”اور انجام نہیں،“ حمزہ جواب دیتا ہے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی آتے ہیں۔ حمزہ لڑکی کو پہلے سے جانتا ہے۔ اس کا نام مریم ہے۔ وہ اسی جماعت میں پڑھتی ہے۔ حمزہ اپنے بال ہاتھ سے درست کرتا ہے۔ مریم کہتی ہے، ”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ ”میں یہاں کام کرتا ہوں۔“ سلیم کہتا ہے، ”آج سے کرتا ہے۔“ مریم کہتی ہے، ”دو ٹکٹ دیں۔“ حمزہ اس کے ساتھ لڑکے کو دیکھتا ہے۔ ”دو؟“ لڑکا کہتا ہے، ”ہاں، دو ہی۔“ حمزہ کہتا ہے، ”پہلے پیسے، پھر ٹکٹ۔“ مریم سو روپے سامنے رکھتی ہے۔ حمزہ دو ٹکٹ نکالتا ہے۔ ایک ٹکٹ اس کے ہاتھ سے نیچے جاتا ہے۔ سلیم کہتا ہے، ”فلم میں بھی ٹکٹ نیچے جاتا ہے۔“ مریم پوچھتی ہے، ”آپ کو یہ فلم بھی یاد ہے؟“ ”مجھے ہر فلم یاد ہے۔“ ”اس فلم کا انجام کیا ہے؟“ لڑکا پوچھتا ہے۔ سلیم منہ بند رکھتا ہے۔ حمزہ نیچے سے ٹکٹ اٹھاتا ہے۔ ”پہلے پیسے، پھر ٹکٹ،“ حمزہ کہتا ہے۔ ”پیسے دے چکی ہوں،“ مریم کہتی ہے۔ ”ہاں، یہ دونوں ٹکٹ ہیں۔“ مریم ٹکٹ لیتی ہے۔ پھر وہ لڑکے کی طرف دیکھتی ہے۔ ”تم اندر جاؤ، علی۔ میں ابھی آتی ہوں۔“ علی کہتا ہے، ”فلم شروع ہونے والی ہے۔“ ”میرے پاس وقت ہے۔“ علی اندر چلا جاتا ہے۔ مریم وہیں کھڑی رہتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے، ”تم کب تک کام کرو گے؟“ ”رات تک۔“ ”پھر گھر کیسے جاؤ گے؟“ ”پیدل۔ میرا گھر قریب ہے۔“ مریم کہتی ہے، ”میرا گھر بھی قریب ہے۔“ سلیم سامنے والی جگہ صاف کرنے لگتا ہے۔ وہ دونوں کی طرف نہیں دیکھتا۔ حمزہ کہتا ہے، ”تمہاری فلم شروع ہو رہی ہے۔“ ”مجھے معلوم ہے۔“ ”علی تمہارا دوست ہے؟“ ”ہاں، جماعت کا دوست ہے۔“ ”اچھا۔“ ”صرف اچھا؟“ حمزہ پیسے دوبارہ شمار کرتا ہے۔ ”پچاس، سو، ایک سو پچاس۔“ مریم کہتی ہے، ”رات کو باہر ملنا۔“ حمزہ پہلی بار سلیم کو دیکھتا ہے۔ سلیم اب بھی جگہ صاف کر رہا ہے۔ حمزہ پوچھتا ہے، ”کون سی فلم ہے؟“ سلیم کہتا ہے، ”یہ نئی فلم ہے۔“ ”اور انجام؟“ سلیم صاف کپڑا رکھ دیتا ہے۔ ”یہ انجام مجھے بھی معلوم نہیں۔“