عید سے پہلے کا کام آج لاہور میں عید سے پہلے کا دن ہے۔ سلیم اپنے گھر میں کپڑوں کا کام کرتا ہے۔ اس کے پاس سب لوگوں کے کپڑے ہیں۔ آج سب کو اپنے کپڑے لینے ہیں۔ سلیم صبح سے کام کر رہا ہے۔ نادیہ اس کے ساتھ ہے۔ علی بھی گھر میں ہے۔ نادیہ نے کہا، "یہ کپڑے کس کے ہیں؟" سلیم نے کہا، "یہ احمد کے ہیں۔" "احمد کے کپڑے پورے ہیں؟" "ہاں، یہ پورے ہیں۔" "اور یہ کس کے ہیں؟" "یہ مریم کے ہیں۔ ان کا کام بھی پورا ہے۔" نادیہ کپڑے ایک طرف رکھتی ہے۔ سلیم پھر کام شروع کرتا ہے۔ گھر کے باہر لوگ آتے جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے کام میں ہے۔ کہیں بات ہے، کہیں گاڑی ہے۔ سلیم کسی کی طرف نہیں دیکھتا۔ دوپہر کو علی نے کہا، "اب میرا کام؟" سلیم نے کہا، "اب تمہارا کام ہے۔" "کیا یہ آج پورا ہوگا؟" "ہاں، آج پورا ہوگا۔" علی نے کہا، "مجھے یہ ابھی چاہیے۔" سلیم نے کہا، "پہلے یہ کام ختم ہونے دو۔" علی پاس بیٹھا رہتا ہے۔ نادیہ پانی دیتی ہے۔ سلیم کپڑا ہاتھ میں لیتا ہے۔ وہ پھر کام کرتا ہے۔ کچھ وقت بعد علی کا کپڑا بھی پورا ہو جاتا ہے۔ علی اسے لے کر اندر چلا جاتا ہے۔ شام کے وقت سب کپڑے ایک طرف ہیں۔ سلیم تھک گیا ہے، لیکن کام باقی نہیں ہے۔ نادیہ نے گھر کا دروازہ بند کیا۔ اسی وقت باہر سے ایک شخص کی آواز آئی۔ "سلیم، میں راشد ہوں۔" سلیم نے دروازہ کھولا۔ راشد کے ہاتھ میں کپڑا تھا۔ راشد نے کہا، "میرا کام آج چاہیے۔" سلیم نے کپڑا لیا اور کہا، "یہ کام کب دیا تھا؟" "آج دیا تھا۔" "آج؟" "ہاں، آج۔ مجھے دیر ہوگئی۔" سلیم نے کپڑا کھولا۔ کپڑا کم تھا۔ کام بھی آسان نہیں تھا۔ راشد نے کہا، "آپ یہ کام کر دیں۔" سلیم نے کہا، "سب لوگوں کا کام ہو گیا ہے۔" "میرا کام نہیں ہوا۔" "یہ بات درست ہے۔" نادیہ دروازے کے پاس آ گئی۔ اس نے کپڑا دیکھا۔ نادیہ نے کہا، "کتنی دیر چاہیے؟" سلیم نے کہا، "ایک وقت چاہیے۔" راشد نے کہا، "میرے پاس ایک وقت نہیں ہے۔" "پھر کیا کریں؟" راشد نے باہر دیکھا۔ گلی میں لوگ اپنے کپڑے لے کر جا رہے تھے۔ راشد نے کہا، "میں کل آؤں؟" سلیم نے کہا، "کل عید ہے۔" راشد نے کہا، "مجھے کل یہ کپڑے چاہیے۔" سلیم نے پھر کپڑا دیکھا۔ نادیہ نے کچھ نہیں کہا۔ علی اندر سے باہر آیا۔ علی نے کہا، "ابا، یہ کام کر دیں۔" سلیم نے راشد سے کہا، "آپ کچھ وقت یہاں رہیں۔" راشد نے کہا، "میں رہوں گا۔" سلیم نے کہا، "پیسے ابھی نہیں ہوں گے۔" راشد نے کہا، "پیسے بعد میں دے دوں گا۔" سلیم نے کپڑا لیا۔ نادیہ نے پانی رکھا۔ راشد گھر کے ایک طرف بیٹھا۔ علی نے دروازہ بند کیا۔ سلیم نے پھر اپنا کام شروع کیا۔