بازار لاہور میں ایک عورت چھوٹے گھر میں ہے۔ آج شام ایک پڑوسی اس کے گھر آتا ہے۔ اس کا بیگ اس کے پاس ہے۔ اس کے گھر میں کھانا نہیں ہے۔ یہ جگہ جلد بند ہوتی ہے۔ عورت ابھی یہاں نئی ہے۔ اس کو بہت کم لفظ آتے ہیں۔ اس کے پاس کم وقت ہے۔ عورت ایک شخص کے پاس جاتی ہے۔ وہ شخص کھانا رکھتا ہے۔ عورت بولتی ہے، «یہ، پلیز۔» شخص روٹی اس کے بیگ میں رکھتا ہے۔ عورت بولتی ہے، «نہیں، یہ نہیں۔» عورت دوسری طرف ہاتھ کرتی ہے۔ شخص ایک سیب اس کے بیگ میں رکھتا ہے۔ عورت بولتی ہے، «نہیں، یہ بھی نہیں۔» عورت پھر ہاتھ کرتی ہے۔ شخص ایک کپ اس کے بیگ میں رکھتا ہے۔ عورت بولتی ہے، «نہیں، یہ نہیں۔» شخص ہنستا ہے۔ وہ کپ ہاتھ میں اٹھاتا ہے۔ وہ عورت کے سامنے کپ رکھتا ہے۔ شخص بولتا ہے، «دودھ؟» عورت پہلی بار بولتی ہے، «دوتھ۔» شخص بولتا ہے، «دودھ۔» عورت بولتی ہے، «دودھ۔» شخص ایک اور دودھ اس کے بیگ میں رکھتا ہے۔ عورت اس کو دیکھتی ہے۔ شخص بولتا ہے، «دودھ دو روپے ہے۔» عورت بولتی ہے، «کتنا؟» شخص بولتا ہے، «دودھ دو روپے۔» عورت بولتی ہے، «دودھ؟» شخص بولتا ہے، «ہاں، دو روپے۔» عورت دو روپے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ شخص وہ روپے اپنے پاس رکھتا ہے۔ عورت بولتی ہے، «شکریہ۔» شخص بولتا ہے، «جی۔» عورت روٹی اور سیب بیگ سے نکالتی ہے۔ وہ کپ بھی باہر رکھتی ہے۔ شخص کپ اپنے پاس رکھتا ہے۔ عورت بیگ اپنے ہاتھ میں لیتی ہے۔ شخص بولتا ہے، «یہ آپ کا بیگ ہے۔» عورت بولتی ہے، «ہاں، میرا بیگ۔» عورت باہر جاتی ہے۔ رات ہو رہی ہے۔ وہ گھر کی طرف چلتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں بیگ ہے۔ وہ راستے میں بولتی ہے، «دودھ۔» وہ ایک بار پھر بولتی ہے، «دو روپے۔» پھر وہ اپنے گھر کے پاس آتی ہے۔ وہ دروازے کے پاس رکتی ہے۔ وہ بولتی ہے، «دودھ۔» سیڑھی کے اوپر پڑوسی ہے۔