دو پیالی چائے وزارتِ شہری رابطہ کے باہر کریم کی چائے کی چھوٹی سی ریڑھی تھی۔ صبح کے وقت دروازے پر بھیڑ بڑھتی، مگر کریم ہر چہرہ یاد رکھتا تھا۔ یہی اس کا اصل کام بھی تھا، اگرچہ چائے بیچنا محض دکھاوا نہیں تھا۔ ثنا ہر جمعرات چائے پیتی اور جاتے وقت کچھ زیادہ رقم چھوڑ دیتی۔ وہ پوچھتی، ”اس ہفتے دودھ زیادہ خرچ ہوا یا کم؟“ کریم جانتا تھا کہ وہ وزارت میں آنے والے اجنبی لوگوں کی تعداد پوچھ رہی ہے۔ فرید منگل کو آتا اور آدھی چینی والی چائے مانگتا۔ وہ بھی زیادہ رقم دیتا، مگر اس کا سوال دوسرا ہوتا۔ ”الائچی تازہ ہے؟“ اس سوال کا مطلب تھا کہ کوئی بڑا افسر اندر گیا یا نہیں۔ کریم نے کبھی نہیں پوچھا کہ دونوں کس کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس نے صرف نام، کپڑے اور آنے کا وقت یاد رکھا۔ اس صبح پانی ابھی پوری طرح گرم نہیں ہوا تھا کہ ثنا سامنے آ گئی۔ اس کے ساتھ فرید تھا، اور دونوں ایک ہی رفتار سے چل رہے تھے۔ ثنا نے ریڑھی کے پاس رک کر کہا، ”دو چائے بنا دیں۔“ کریم کا ہاتھ خود بخود چینی کے ڈبے کی طرف گیا۔ اس نے کہا، ”ایک میں چینی کم، اور دوسری میں الائچی نہیں۔“ فرید نے فوراً ثنا کی طرف دیکھا۔ ثنا نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل بند کر دی۔ ”آپ کو ہماری پسند پہلے سے معلوم ہے؟“ ثنا نے پوچھا۔ کریم نے چمچ دیگچی میں گھمایا اور بولا، ”دفتر کے لوگ روز آتے ہیں، باتیں یاد رہ جاتی ہیں۔“ ”ہم پہلے کبھی ساتھ نہیں آئے،“ فرید نے کہا۔ ”چائے ساتھ آئے لوگوں کی نہیں، الگ الگ آدمیوں کی ہوتی ہے،“ کریم نے جواب دیا۔ دروازے سے سبز دوپٹے والی عورت اندر گئی۔ اس کے ہاتھ میں موٹا خاکی لفافہ تھا۔ کریم نے نظر اٹھائے بغیر لفافہ اور اس کے سیاہ جوتے یاد کر لیے۔ ثنا نے آہستہ سے پوچھا، ”کل دودھ کتنا بچا تھا؟“ اسی وقت فرید بولا، ”اور الائچی کیسی تھی؟“ کریم نے دونوں پیالے سامنے رکھ دیے، مگر کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اردگرد کھڑے لوگ اپنی چائے پی رہے تھے، اور وزارت کا دروازہ بار بار کھل رہا تھا۔ ”آج دودھ ابھی گرم ہو رہا ہے،“ کریم نے کہا۔ ”الائچی بھی آج ہی کھلے گی۔“ ثنا نے پیالا اٹھایا، پھر اسے واپس رکھ دیا۔ ”یہ میری چائے نہیں ہے۔“ کریم نے دیکھا کہ الائچی والا پیالا اس کے سامنے تھا۔ یہی چھوٹی سی غلطی کافی ہو سکتی تھی، مگر اب اسے درست کرنا بھی خطرناک لگ رہا تھا۔ فرید نے اپنی جیب سے رقم نکالی۔ ثنا نے بھی اسی وقت میز پر رقم رکھی، اور دونوں کے نوٹ ایک دوسرے پر آ گرے۔ ”ہمیں اندر جانا ہے،“ فرید نے کہا۔ ثنا نے کریم کی طرف دیکھ کر پوچھا، ”واپسی پر چائے یاد رہے گی؟“ کریم نے دونوں پیالے بدل دیے اور کہا، ”اب چائے اپنی اپنی ہے۔“