نیلی بس کی فہرست سلمان آج شام ایک چھوٹے شہر میں ہے۔ آج اس کا نیا کام شروع ہونا ہے۔ سات بجے کی بس اسے وہاں لے جائے گی۔ وہ بس کے پاس ایک کیفے میں بیٹھا ہے۔ سلمان چائے ختم کرتا ہے اور اٹھتا ہے۔ میز کے نیچے ایک کالا بیگ رکھا ہے۔ بیگ کے پاس ہاتھ سے لکھی فہرست ہے۔ سلمان فہرست اٹھا کر پڑھتا ہے۔ فہرست میں صرف تین باتیں لکھی ہیں۔ دو چائے، چار روٹیاں، نیلی بس سات بجے۔ سلمان گھڑی دیکھتا ہے، ابھی دس منٹ باقی ہیں۔ وہ کیفے والی خاتون کو بیگ دکھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ”کیا یہ بیگ آپ کا ہے؟“ خاتون کہتی ہے، ”نہیں، یہ یہاں نہیں تھا۔“ سلمان فہرست دکھا کر پوچھتا ہے، ”دو چائے کس نے لیں؟“ خاتون میز کی طرف دیکھتی ہے۔ ”ایک آدمی اور ایک بچی یہاں تھے۔“ ”کیا کالا بیگ ان کے پاس تھا؟“ ”ہاں، آدمی کے پاس کالا بیگ تھا۔“ ”وہ کہاں گئے؟“ ”آدمی نے چار روٹیوں کی بات کی تھی۔“ سلمان بیگ لے کر باہر آتا ہے۔ قریب ہی روٹی کی ایک دکان ہے۔ دکان والا آخری روٹیاں ایک کپڑے میں رکھتا ہے۔ سلمان پوچھتا ہے، ”کیا کسی نے چار روٹیاں لیں؟“ دکان والا کہتا ہے، ”ہاں، ایک آدمی نے لیں۔“ ”کیا اس کے ساتھ ایک بچی تھی؟“ ”ہاں، بچی کے ہاتھ میں پانی تھا۔“ ”کیا اس کے پاس کالا بیگ تھا؟“ دکان والا سلمان کے ہاتھ کی طرف دیکھتا ہے۔ ”نہیں، شاید وہ یہی بیگ بھول گیا۔“ ”وہ کس طرف گیا؟“ ”وہ نیلی بس کی طرف گیا۔“ سلمان نیلی بس کی طرف تیز چلتا ہے۔ بس کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ ایک آدمی اپنی جگہ کے نیچے دیکھ رہا ہے۔ ایک بچی چار روٹیاں اپنے پاس رکھے بیٹھی ہے۔ سلمان بس والے سے پوچھتا ہے، ”کیا یہ سات بجے والی بس ہے؟“ بس والا کہتا ہے، ”ہاں، اب صرف دو منٹ ہیں۔“ سلمان کالے بیگ کو اوپر کرتا ہے۔ ”کیا کسی کا بیگ رہ گیا ہے؟“ وہ آدمی فوراً کھڑا ہو جاتا ہے۔ ”یہ میرا بیگ ہے۔ آپ کو کہاں ملا؟“ سلمان کہتا ہے، ”کیفے کی میز کے نیچے۔“ آدمی بیگ لینے کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے۔ سلمان ابھی بیگ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ ”بیگ میں کیا ہے؟“ سلمان پوچھتا ہے۔ آدمی کہتا ہے، ”میرے کپڑے اور کام کے کاغذ ہیں۔“ ”اور باہر کی جیب میں؟“ آدمی کچھ دیر سوچتا ہے۔ ”میری بچی کی سرخ کتاب ہے۔“ سلمان باہر کی جیب کھولتا ہے۔ اندر ایک چھوٹی سرخ کتاب ہے۔ وہ بیگ آدمی کو دے دیتا ہے۔ آدمی کہتا ہے، ”میرا نام کامران ہے۔ بہت شکریہ۔“ سلمان فہرست دکھاتا ہے۔ ”یہ بھی آپ کی ہے؟“ کامران فہرست دیکھ کر سر ہلاتا ہے۔ ”ہاں، مریم نے میرے لیے لکھی تھی۔“ مریم کہتی ہے، ”دو چائے، چار روٹیاں، نیلی بس۔“ بس والا دروازہ بند کرکے کہتا ہے، ”اب چلیں۔“